43

۔تلاش رزق نہیں رازق کی تلاش

عوامی عدالت
تحریر( سردار امجدفاروق) 15.06.19
مغربی ممالک کے سکالرز مدبروں نے پوری دنیا کو خاص کر مسلمانوں کو اُس فکر میں ڈال دیا ہے جسکا وعدہ میرے اللہ نے پوری انسانیت سے کیا ہوا ہے اور رب کریم کا یہ وعدہ قیامت تک جاری و ساری رہیگا قارٸین وہ وعدہ تھا رزق کا وعدہ کہ مالک بھی میں ہوں اور رازق بھی میں ہوں جب یہود و نصاری نے دیکھا کہ کون سا ایسا کام ہے جو کرکے مسلمانوں کو اپنے اصل مقاصد سے ہٹایا جا سکتا ہے اور وہ اپنے اللہ کو بھول کر اس دنیا کی فکر میں مبتلا ہو سکتے ہیں تو نتیجہ یہ نکالا کہ پیٹ کا بھرنا ایسا کام ہے جس پر مسلمانوں سمیت ہر مذہب کے لوگوں کو آرام سے مالک حقیقی اور اُسکی کتاب قران سے دور کیا جاسکتا ہے ۔قارٸین بڑے دن ہو گٸے تھے اپنے دوست غفورے سے ملاقات نہ ہو سکی تھی آج وقت نکال کر مجھے ہی اپنے دوست کو پاس جانا پڑا کیونکہ موضوع ہی ایسا تھا کہ اس موضوع پہ اللہ پر یقین اور دنیا مافیا سے بے خبر آدمی ہی کھل کر راٸے کا اظہار کر سکتا ہے گفتگو سٹارٹ ہوٸی غفورے سے پوچھا آج دنیا اتنی کیوں پریشان ہے جھٹ سے غفورا بولا صاحب جب اُس اللہ اور اُس کے قران کو چھوڑ کر مخلوق خود رازق بننے کی کوشش کر رہی ہے تو پھر پریشانی بھی بنتی ہے اور ذلت بھی اُٹھانا پڑتی ہے پھر گھروں میں فاقے بھی آتے ہیں اور سکون بھی چلا جاتا ہے کتنے خوش قسمت تھے اور ہیں ہم کے رب نے خوبصورت شکل جسم اور دنیا کی ہر نعمت بغیر پیسے لیے ہمیں عطا کر دی جسکی قدر ہم نے چھوڑ دی ہم نے انگریزوں کے جال میں پھنس کر کبھی سوشلزم کبھی کارل مارکس کبھی لینن کو پڑھ کر ایسی گمراہی اختیا ر کی کہ آج ہر طرف مسلمان پریشانی کے عالم میں ہیں رب نے اور اُسکے محمد ﷺ کا راستہ چھوڑ کر قران کی گہرائیوں میں جانا چھوڑ کر جب قوم مغرب کی طرف دیکھنے لگی تو پھر وہ کریم رب ہم سے ناراض ہو گیا انگریزوں کے بناٸے معشیت کے طریقے تو ہمیں بہت پسند آٸے لیکن ہم نے ذکوة کو روک کر یا پھر چھپا کر ایسی رسواٸی ملی کہ ہم پھر کبھی نہ سنبھل سکے آج ہر طرف معشیت معشیت کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے رزق کی فکر میں ہم رازق کو بھول گٸے اور پھر نتیجہ سب کے سامنے آج جدھر بھی نظر دوڑاٸیں اسلامی تعلیمات کو چھوڑ لوگ کارل مارکس کے نظریے کو حل سمجھنا شروع ہو گٸے حالانکہ کارل مارکس کے جو کتابچے کے ہمیں دیے گٸے یا اُس کی کتاب کیپیٹل داس جو ہم پڑھ کر گمراہی کی طرف گٸے وہ لکھنے والے امریکن دماغ تھے یعنی یہ سارا کام امریکن سی آٸے اے کی مدد سے ہو رہا تھا ۔غفورا کہنا لگا صاحب کس قوم کی بات کرتے ہو مساجد میں دین کے نام پر اپنی ہٹیاں اور روب و دبدبہ قاٸم ہو رہا ہے لوگوں کو رازق رب بتا کر خود تنخواوں پر جھگڑا کیا جاتا نہ واعظ کرنے والے کو رزق کا یقین اور خیر سننے والے تو ماشا ٕ اللہ وہ جمعہ کو مسجد میں تو کچھ دیر بیٹھ جاتے ہیں لیکن فکر یہ لگی ہوتی ہے کہ کب نماز کی اللہ اکبر ہو اور بغیر اُس مالک سے دعا مانگے بھاگتے ہوٸے واپس بازار میں پہنچیں غفورا کہتا گیا میں سنتا گیا اور حیران بھی ہوتا گیا کہ کس طرح یہودو نصاری نے حصیقت میں ہمیں اُس اللہ سے دور کر دیا اور قران کو ہم نے صرف ثواب کی نیت سے پڑھا یا پھر اپنے بچے کو حفظ کروا کر چھوڑ دیا کہ ہم کچھ کریں چوری کریں ڈاکہ ماریں کرپشن کریں بس حافظ ہمیں جنت میں پکڑ کر لے جاٸیگا میرے خیال میں اسی سوچ نے ہمیں گمراہی میں دھکیل دیا میں نے بارہا مرتبہ لکھا کہ آج ہم سات سال لگا کر واپس آکر اپنے آپ کو دین کا ٹھیکیدار سمجھ بیٹھے ایسا لکھنے پر بہت دفعہ دبے الفاظ میں علما ٕ کرام سے میٹھی میٹھی سننا بھی پڑی کہ لوگ آج تنقید کرتے ہیں فلاں کو دین کی سمجھ نہیں فلاں کو تجوید سےقران پڑھنا نہیں آتا فلاں کو حدیث کے روایوں کا نہیں پتہ میں اندر ہی اندر سوچتا رہتا ہوں کہ یہ صاحب تو اپنی ہی بے عزتی کیے جا ریے ہیں کیونکہ ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ ہم دین سیکھا رہے ہیں ہم دین کی خدمت کر رہے ہیں ہماری تنخوایں محدود ہیں لیکن پھر بھی خدمت جاری ہے تو میں سوچتا ہوں اگر ان صاحب کو پتہ ہو کہ اصل میں دین تو آپ کی خدمت کر رہا ہے قران کو آپ نے پڑھنا سیکھا آج وہی اللہ اسی قران کے صدقے آپ کو عزت دے رہا ہے ورنہ قران نہ ہوتا صاحب قران نہ ہوتا تو آج آپ کے ہاتھ میں بھی بیلچہ اور کدال ہوتا تو کیوں یہ کہتے ہو کہ ہم دین کی خدمت پر معمور ہیں میں تو کہتا ہوں دین آپ کی بھی اور ہم جیسوں کی بھی خدمت کر کے ہیں باعزت بنا رہا ہے ورنہ آپ نے کب قران کو پڑھ کر ایسی تحقیق کر دی جس کی وجہ سے انگریز اور دیگر مذاہب آپ کی ضرورت بنے قارٸین ہمیں اپنے اصل مالک کی کہی ہوٸی بات کی طرف لوٹنا ہو گا اسی میں ہماری بقا ہے ہمیں خود عمل کر کے دوسروں کو عمل کی تلقین کرنا ہو گی ہمیں کارل مارکس امریکن سی آٸے اے کی کتابیں چھوڑ کر اُس قران کی طرف آنا ہو گا جس میں دونوں جہانوں کے مساٸل اور اور دونوں جہانوں کی خبریں موجود ہیں میں ایک مثال ہی دے دو یہ تو قران نے ہی کہا ہے کہ جھوٹ نہ بولو جھوٹ سے رزق میں کمی ہو تی جھوٹ جھوٹ ہے جس نے مٹ جانا ہے سچاٸی نے غالب آنا ہے ۔آج انگریز اس پر عمل کر رہے یعنی جس پر عمل پہلے ہم نے کرنا تھا اُس پر عمل مغرب کر رہا ہے تو پھر کیوں نہ ہمیں رسواٸی کا سامنا کرنا پڑے آج پاکستان کے اندر اتنے فتوے بانٹے جاتے ہیں جو باقی ساٹھ اسلامی ممالک کے فتووں سے ہزار گنا آگے ہیں بلکہ میں تو کہونگا ہمیں آزاد ہوٸے ابھی ستر سال ہوٸے اور ہم اُن پرانی تہذیبوں کو گالم گلوچ کر رہے ہیں جنکی تاریخ ہم سے ہزاروں سال پہلے کی ہے ۔ہم نے ان ستر سالوں میں بس دین سے نکالنے پر ذور دیا اور ہر بات پر اسلام کو خطرہ ہے خطرہ ہے کہ نعرے لگا کر نفرتوں کے بیج بوٸے حالنکہ ہمارا دین محبتوں کا پیکر صحابہ کرام کے دور میں بھی اتنے فتوے نہیں نکلے جو ہر جمعہ یا کسی دینی اجتماع میں نکلتےٕ ہیں ۔اور بعض سر پھرے تو ان فتوا فروش لوگوں کے فتووں کی اس طرح قدر دان ہے جیسے ہمارا دین نعوذ بالللہ لوگوں کو دین اور اللہ سے دور کرنے کا نام ہے ۔ہمیں اگر دین سے حقیقت میں پیار ہے تو پھر بھٹکے ہووں کو راٸے راست پر لانے کی کوشش ہماری ذمہ داری ہ اب اُس اللہ کا کام کہ وہ کس کو بخش دے اور کس کو سزا وار قرا ر دے کیونکہ عدالت تو میدان محشر میں لگے گی جہاں جج اللہ پاک ہو گا جہاں کس کے ساتھ نا انصافی نہیں ہو سکتی جہاں ہر ایک کو اپنے کیے کی بنیا د پر حصہ ملے گا ۔تو پھر دنیا پر ہم نے کونسی عدالتوں لگا رکھی ہیں جو لوگوں کو جنت اور دوزخ کے ٹکٹ بانٹتی چلی جا رہی ہیں بلکہ جہنم میں زیادہ بھیجنے کا کام جاری ہے اور جنت میں صرف چند مخصوص لوگ جانا چاہتے ہیں ۔قارٸین تحریر میں کسی غلطی کو دیکھ کر امید ہے میری تصیح کر نے کی کوشش کی جاٸیگی بس پیغام یہی کہ قران سب پر اترا ہے سب اپنے اپنے حصہ کا کام کرو اور قران کی طرف لوٹ آو اسی میں انسانیت کی بھلاٸی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں