46

میری قوم اور پیشہ ور لیڈران

#متاع_نظر
تحریر سردار ساران خالق
میری قوم اور پیشہ ور لیڈران
آزاد کشمیر کے اندر پھر ایک بار پھر بڑا طوفانی بجٹ سابق روایات کو برقرار رکھتے ہوٸے سڑکیں سیا حت وغیرہ کے لیے بھاری رقم مختص کر کے نٸے سال کے لیے اپنی رہی سہی کسر نکالنے کے لیے لوگوں سے داد وصول کرنے کا سلسلہ جاری بعض نادان دوست ہر دفعہ کی طرح کھربوں کا نام سُن کر پھر تعریفوں کے پُل باندھنا شروع ہو گئے ہیں جن کو بجٹ کی الف ب سے بھی واقفیت نہیں وہ بھی مبارک مبارک کی صدائیں لگاتے نظر آتے ہیں جیسے پہلی مرتبہ اسمبلی نے کوئی بجٹ پیش کیا ہو قارئین پریشانی اس بات کی ہے کہ کیوں ہماری قوم کسی کا پیسہ دیکھ اتنا خوشی منانا شروع کردیتی ہے حالانکہ اس قوم کے ساتھ چکر فراڈ کرنے والے 70 سالوں سے وہی فراڈ والا دھندہ اور گیم کھیلتے چلے آرہے ہیں ہر دفعہ انکو بجٹ میں فلاں رکھا جائے گا یہ رکھا جائے گا کا سندیسہ سنایا جاتا ہے بعد میں سڑکیں رکھ کر پرانی سڑکیں پھر ریپیر جو ایک سال پہلے ان کے کمیشن کی نظر ہوئی تھی وہ دوبارہ رکھ لی جاتی ہے پھر کمیشن وصول کیا جاتا ہے عوام کچھ کہیں تو یہ ٹھیکیداروں سے مل کر کچھ عرصے کے لیے کام بند کرواتے ہیں تاکہ لوگ سمجھیں ہم نے احتجاج کر کہ یا اپنا حق مانگ کر غلطی کی ہے پھر دوبارہ کام سٹارٹ ہوتا ہے کہ شاید اب لوگ سڑک کا منہ کالا ہوتا دیکھ کر خاموش ہو جائیں پھر کمیشن وصولی لیکن اس قوم کا اللہ ہی حافظ کہ کب اس کی عقل سے پردے اٹھیں گے اور کب انکو سمجھ آئے گی کی یہ ٹیکس جو ہم سے وصول کیا جاتاہے آخر وہ جاتا کدھر ہے یعنی پیسے بھی ہمارے اور احسان بھی ہم پر لیکن ماتم کرے کوئی انکی عقلوں پر اور نام کے پڑھے لکھوں پر جو ان چوروں کا دفاع کرنے سامنے آجاتے ہیں تاکہ لیڈر خوش ہو کر کوئی ٹھیکہ دے دے کسی عزیز کی یا اپنی ہی نوکری کا وعدہ کر لے بعض تو خیر جنکی نوکری لگی ہے وہ دو نوکریاں کر رہے ہیں ایک سٹیٹ کی اور دوسری اُسکی جس نے اُسے ساتواں یا گیارواں سکیل دیا اور یہی نہیں یہ سٹیٹ کے کم اور لیڈر کے ملازم زیادہ نظر آتے ہیں ان کی شکلیں آپ کو سوشل میڈیا پر اکثر نظر آٸیں گی یہ آئیں گے پوسٹ اپ لوڈ کریں گے اپنی لیڈر کو Tag کریں گے پھر انباکس کرکے بس لیڈر کی زبان سے اس لفظ کی تمناکرتے نظر آئیں گے کہ شاباش آپ نے نوکری کچی سڑک لینے کا حق ادا کر لیا اسی طرح کرو کیونکہ میں نے تمھیں نوکری کی بھیک جو دی ہے .ایسے لیڈروں کے اور اُنکی نسلوں کے نوکر آپ کو ہر حلقے میں نظر آٸیں گے جو بے چارے پیکج 300 کا اپنی جیب سے کروا کر اپنے لیڈر کو تو خوش کر رہے ہوں گے لیکن گھر پر اور شاید پڑوس پر کوٸی بھوکا سویا ہو تو انکو اُس کا احساس نہیں ہو گا قارئین ایسے اقتدار پرستوں کی سچ میں اقتدار والوں کو کوٸی پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ اُنکو پتہ چل جاتا ہے کہ دوسروں کے اشاروں پر چلے اُسکی حیثیت کیا ہوتی اللہ پاک نے عقل دے کر خوبصورت شکل دے کر اپنا نائب بنایا تھا اور یہ جھولی چُک ٹائپ چیزیں اپنے جیسے انسان کی نوکری پر لگ کر سب کچھ بھول گئی اور ہر چیز انھوں نے اپنے اقتدار والے لیڈر کے سپرد کر دی آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ لیڈر جب اپنے گھر گاوں میں آتا ہے تو یہ صبح صبح فائلیں بغلوں کے نیچے چھپائے یا پھر مٹھائی لیے لیڈر کی چوکھٹ کے باہر کھڑے ہونگے اندر سے آواز آٸیں گی قائد سوئے ہوئے ہیں یہ بے چارے باہر کہیں سایا ڈھونڈ کر یا پھر دھوپ میں ہی لیڈر کے دوازے کے سامنے چوکیدار کے گیٹ کھولنے کے انتظار میں ہوں گا اگر ایک گھنٹے یا دوگھنٹے کے بعد کسی نے اندر بلا بھی لیا تو یہ اپنے ساتھ جانے والے لوگوں کو کہنا شروع کر دیتے ہے کہ دیکھا میری بہت عزت کرتے ہیں ہمارا قائد ہمارا ہیرو حالانکہ یہ ایک گھنٹے سے گیٹ کے باہر کھڑا بے چارا انسانیت کی بھی تذلیل کر رہا تھا اس طرح کے جاہل دیکھنے کے لیے کسی دن دور کھڑے ہو کر لیڈر کے گھر سے تھوڑا دور بیٹھ جائیں صبح سویرے جائیں آپ کو وہ نظارے دیکھنے کو ملیں گے کہ بندہ ایسی نوکری یا کچی سڑک یا پی سی سی پر سو دفعہ لعنت بھیجے تو بہتر ہے الیکشن میں لیڈر ان سے جو وعدے کر کیے ووٹ لیتا ہے ۔یہ انھیں وعدوں کو یاد دلانے کے لیے پورے پانچ سال اسی طرح رسوا ہو رہے ہوتے ہیں اور پانچ سالوں کے بعد پھر وعدوں پہ اُسی لیڈر کا انتخاب کریں گے جس کی رگ رگ میں حرام کا مال اور وعدہ خلافی کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی ہے آخر قارئین یہ قوم کب تک اپنی اس طرح تذلیل کرواتی رہے گی اور ان لیڈروں کی نسلوں کی نوکر بنی رہے گی اللہ پاک نے تو انسان کو اشرف المخلوق بنا کر بھیجا تھا پھر یہ کیسا انسان جس سے جانور بھی پناہ مانگیں جو اپنی عزت اور غیرت بار بار پیشہ ور لیڈروں سے لٹاتا ہے کب یہ سدھریں گے کب ان کے عقل سے پردے ہٹیں کب یہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے یہ پیغام چھوڑیں گے کہ ہم خودی پر سودا بازی نہیں کرتے تھے ہم ان سیاسی لیڈروں کے جوتے نہیں اٹھاتے تھے ہم صبح سویرے انکی چوکھٹ کے باہر کھڑے نہیں ہوتے تھے کیا یہ ممکن ہے ہم تو اپنی کوشش کرتے جاٸیں گے کہ کہیں ان کی غیرت ملی جاگے خیر یہ کیا جاگیں گے ہم نے اپنا فرض تو پورا کرنا ہی ہے بحرحال کسی دن آپ ضرور جاٸیے گا ان کے گھر تاکہ دربانوں کی طرح کھڑی اس نسل کو دیکھنے میں آپ کو غلطی نہ لگے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں